ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہاسن ضلع میں بارش سے تقریباً 900کروڑروپے کانقصان ہواہے، گھربیٹھ کرتیارکردہ حکومت کی رپورٹ مکمل نہیں ہے:ایچ ڈی ریونا

ہاسن ضلع میں بارش سے تقریباً 900کروڑروپے کانقصان ہواہے، گھربیٹھ کرتیارکردہ حکومت کی رپورٹ مکمل نہیں ہے:ایچ ڈی ریونا

Thu, 11 Aug 2022 11:07:20    S.O. News Service

ہاسن، 11؍اگست(ایس او نیوز)شدید بارش سے ہونے والے نقصانات کی مکمل رپورٹ ممکن نہیں ہے۔ تاہم، موجودہ حکو مت کی طرف سے تیار کردہ رپورٹ گھر بیٹھ کر تیار کی گئی تھی، ضلع میں کل 2000 مکانات منہدم ہو چکے ہیں، حکام کو چاہیے کہ وہ غفلت نہ برتیں اور لوگوں کے مسائل حل کرنے کی جانب خصوصی توجہ دیں، یہ مطالبہ سابق ریاستی وزیر ایچ ڈی ریوانا نے کیا۔

شہر میں رکن پارلیمنٹ کی رہائش گاہ پرایچ ڈی ریونانے کہاکہ ڈپٹی کمشنرکو چاہئے کہ وہ تمام قانون سازوں اور عہدیداروں کی فوری میٹنگ بلا کر معلومات حاصل کریں اور حکومت کو زمینی صورتحال سے آگاہ کریں۔ضلع کے ڈپٹی کمشنرکی اطلاع کے مطابق ضلع میں تقریباً 450 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے،یہ صرف جزوی تخمینہ ہے جبکہ میرے خیال سے ضلع میں ڈپٹی کمشنرکی جانب سے لگائے گئے اندازے سے کہیں زیادہ یعنی تقریباً 750یا 900 کروڑ روپے کانقصان ہواہے۔ یہ بہت بڑا نقصان ہے۔وہ کسان جو کورونا سے پہلے ہی سہمے ہوئے تھے، اب موسلا دھار بارش سے مزید پریشان ہیں۔ زراعت اور باغبانی کی فصلوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔دھان کے پودے پوری طرح زمین کو لگ گئے ہیں اور کسان زہر پینے کی حالت تک پہنچ گئے ہیں۔

اس سلسلے میں انہوں نے ذاتی طور پر ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کی ہے اور سب کچھ بتا دیا ہے۔ضلع کی کئی جگہوں پر آنگن واڑی، اسکول کی عمارت کسی بھی وقت گر سکتی ہے، مرمت کیلئے کم از کم 50 کروڑ روپے ڈی سی اکاؤنٹ کو دئیے جائیں۔ سڑک اور جھیل کے پشتے کو نقصان پہنچا ہے،اس کیلئے ہر ایک اسمبلی حلقہ کو 50 کروڑ روپے خرچ کیاجاناچاہئے۔ روڈ اور آنگن واڑی کی مرمت کیلئے 5کروڑ روپے دئے جانے چاہئیں۔این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف قوانین کے علاوہ، مصیبت میں مبتلا افراد کو مناسب معاوضہ دیا جانا چاہیے۔ایچ ڈی ریونانے مزیدکہاکہ بارش کے باعث نقصان کی مکمل رپورٹ نہیں دی جا سکی۔

حال ہی میں تیار کردہ رپورٹ گھر بیٹھ کر تیار کی گئی اور ضلع میں تقریباً 2 ہزار مکانات منہدم ہوئے ہیں۔ عوام کے مسائل کو نظر انداز کیے بغیر حکام کو ان کا حل ڈھونڈ نکالنا چاہئے۔حکومت کی طرف سے 15 کروڑ روپے جاری ہونا کسی بھی چیز کیلئے کافی نہیں ہیں۔75 فیصد فصلیں تباہ ہو گئیں۔پہلے کافی کے کاشتکاراور اب آلو کے کاشتکاروں کو حالت زار کا سامنا کر ناپڑرہاہے۔ اس تناظر میں ڈی سی نے متعلقہ محکمے کے افسروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان سے معلومات حاصل کریں، ایم ایل اے کی میٹنگ کریں اور زمینی صورتحال سے حکومت کو خبردار کریں۔


Share: